انسان ساری زندگی اپنے کچھ خوابوں کی تکمیل میں سرگرداں رہتا ہے۔ کبھی وہ خواب ہوتے ہیں تو کبھی ماضی کی محرومیاں جو سیراب بن کے اسکا پیچھا کرتی ہیں۔ انسان اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھول جاتا ہے کہ جن خواہشات کے پیچھے وہ اندھا دھند بھاگ رہا ہوتا ہے وہ اسکی زندگی کا سکون اس سے چھین کر اسکو خوشیوں سے بہت دور کر دیتی ہے اسے اپنی زندگی کی ہر کامیابی بےکار دکھائی دیتی ہے ۔
کیا انسان ہے گمان کرتا ہے کہ اسکی خواہش نفس کی تکمیل میں سکوں ہے؟
ہرگز نہیں
انسان کا حقیقی سکون فطرت کے ان اصولوں میں پنھاہ ہے جس پر خود حضرت انسان کی تخلیق ہوئی ہے


جواب دیں