دنیا میں انسان کے وجود کے آغاز اور انسانی معاشروں کے قیام کے بعد سے انسانوں اور ان کے پروردگار کے درمیان تعلق کی تنہا کڑی اسلام ہی رہا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم نے ان تمام تعلیمات کو شامل کر لیا ہے جو تمام بڑے رسول لے کر آئے تھے۔ عقائد کی تعیین و اصلاح اور قوموں کی ہدایت کے سلسلے میں جو کچھ قرآن کہتا ہے۔ وہی سب کے لئے کافی ہے۔ جس اسلام کی تبلیغ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ وحی اعلیٰ کی آخری شکل ہے۔ اسی طرح اس کی حیثیت عام ہے جو ساری قوموں اور قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کا احاطہ کرتی ہے پہلے کی تمام نبوتیں مقامی اور وقتی تھیں یعنی زمان و مکان کے لحاظ سے محدود ۔ عام اور دائی نبوت تو صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے انسان کو وحی اعلیٰ کی آخری ہدایت دے کر اس کی عقل کے سپرد کر دیا ہے کہ اب وہ ان ہدایات کی روشنی میں اپنا راستہ طے کرے۔ اور سمجھ اور فیصلے کی صلاحیت کو کام میں لا کر درست اور مصلحت عامہ کو پہچانے۔ یعنی وحی کے زمانہ کا خاتمہ عقل کے زمانہ کا آغاز ہے۔
حضرت محمد نے عقیدہ ، عبادت اور اخلاق و کردار کی بنیاد میں مستحکم کر دیں اور انسان کی سیرت اور معاشرے کی روایات کو منضبط کرنے والی واضح ہدایات سامنے رکھ دیں۔ ان ہدایات اور بنیادوں پر وقت گزرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔
رہے دیگر معاملات۔۔۔ اور وہ کتنے زیادہ ہیں۔۔ تو انھیں انسانی عقل کے سپرد کر دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہے برقرار رکھے اور جسے چاہے مٹادے۔ علوم و فنون ،زمینی سرگرمیوں اور تہذی پیش رفتوں میں دین نے عقل کو آزادی دی ہے۔ ان سارے میدانوں میں اصولوں کی تعیین اور وسائل کی آزادی کے ساتھ عقل بغیر کسی رکاوٹ کے تصرف کر سکتی ہے۔
مثلا شورائیت سیاسی استبداد اور فرد کی پوجا کی روک تھام اور متعلقہ امور میں قوم کو نگرانی کا حق دینے کے سلسلے میں دینی اصول ہے اور عقل کو یہ حق حاصل ہے کہ اس مقصد کے حصول کےلئے جو دستور چاہے بنائے۔
ظلم و ستم کی روک تھام کے لئے عدل و انصاف دینی اصول ہے اس اصول کو انتظامی سماجی اور اقتصادی طور پر نافذ کرنے کے لیے عقل کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو قانون چاہے بنائے اور جو عدالت چاہے قائم کرے۔
ایمان کے تحفظ اور فتنہ و فساد کو دبانے کے لیے جہاد دینی اصول ہے اور خشکی و تری اور فضا میں جہاد کے وسائل لا محدود ہیں۔ اس طرح ان میدانوں میں پہنی اختراع کی بھی کوئی حد نہیں۔ جو سزائیں دین میں متعینہ ہیں ان کے علاوہ دھوکہ دہی ، نصب ، جعلسازی، سود، خیانت، نین ، یتیم کا مال ہڑپنے اور میدان جنگ سے فرار وغیرہ بیشتر جرائم کی سزا میں عقلمی اجتہاد پر چھوڑدی گئی ہیں۔
ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں جو انبیائے کرام کے دور میں پیش نہیں آئے ہیں ۔ میں فضائی تگ و تاز اور مصنوعی سیاروں کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ روئے زمین پر عام انسانی سرگرمیوں کی بات کر رہا ہوں ایسے اہم معاملات پیش آتے ہیں جن میں حکومتوں کو اس طرح کے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن کی پہلے اسلامی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ان معاملات میں ایمان اورپر ہیز گاری کی روح کے ساتھ عقل سے کام لے کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔
بے شک اللہ تعالی کو کوئی چیز دوسرانی بھیجنے سے نہیں روک سکتی تھی لیکن جب ہماری ہدایات مکمل ہو چکی تھیں تو محض انھیں دہرانے سے کیا فائدہ ہوتا؟ اس لیے قیامت تک انسانی قیادت کے لئے حضرت محمد کی لائی ہوئی کتاب و سنت پر قدرت نے اکتفا کر لی۔ اگر اسلام کے وارث علماء و حکام نے اپنا فرض دیانت داری سے ادا کیا ہوتا تو اس سوال کی ضرورت ہی نہ پڑتی کہ اسلام ہی کیوں آخری دین ہوا۔
ظاہر ہے امت اسلامیہ اپنے ثقافتی و سیاسی بگاڑ کی وجہ سے خود اپنی قیادت کی صلاحیت کھو چکی ہے تو پوری دنیا کی قیادت کیسے کرے گی؟ دنیا کی قیادت کے تعلق سے اسلام کی ابدی صلاحیت کا نمونہ کیسے پیش کرے گی ؟ اہل معقل اس کو مسترد کرتے ہیں کہ دنیا کو پیچھے کی طرف گھسیٹا جائے یا فکری و تہذیبی سرگرمی پر پابندیاں لگائی جائیں۔ اسلام اگر رجعت پسندانہ مسلک یا تہذہبی جمود کا نام ہوتا تو ہم اسے مسترد کر دیتے لیکن اسلام تو اپنے پیروکاروں کو آگے بڑھاتا ہے۔ بچے اسلامی فقہا کہتے ہیں کہ جہاں بھی انصاف اور رقم ہوگا اور جہاں فضیلت ، آزادی اور مصلحت عامہ ہوگی و ہیں شریعت الہی ہوگی۔
آخران مقاصد کے علاوہ لوگ آخر یک اور کیا چاہ سکتے ہیں؟
روز و شب کی گردش چیزوں کی حقیقت نہیں بدل سکتی ۔ اگر وحدانیت اللہ تعالی کی صفت ہے تو زمانہ چاہے جتنا بدل جائے یہ صفت نہ بدل سکتی ہے نہ مٹ سکتی ہے اور اگر انسان کا اپنے پروردگار پر انحصار حق ہے تو تہذیب کی پیش قدمی کا مطلب یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ انسان اللہ تعالٰی سے بے نیاز ہو جائے اور نماز و دعا کی ضرورت باقی نہ رہ جائے۔
یہی صورت اخلاق اور تمام انسانی تعلقات کے میدان میں بھی ہے۔ جب اہل کتاب نے یہ گمان کیا کہ دین محض چند مراسم و او بام کا نام ہے تو ان پر واضح کر دیا گیا کہ ایسا ہر گز نہیں۔ دین تو نام ہے اللہ تعالی سے ربط و تعلق اور بہترین عمل کا۔ جس کسی نے اپنے دل میں اللہ تعالی کے لیے اخلاص پیدا کر لیا اور اپنا عمل صالح بنالیا اور سیدھے راستے پر آگیا وہ نامراد نہیں ہو سکتا ۔
وقالو الن يدخل الجنة الا من كان هو دا او نصرى تلك امانيهم قل هاتو برهانکم ان کنتم صادقين بلى من اسلم وجهه لله و هو محسن فله أجره عندربه ولا خوف عليهم ولاهم يحزنون )البقرة : ۱۱۲.۱۱۱(
“ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی یا عیسائی نہ ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں ہے ہو۔ دراصل نہ تمھاری کچھ خصوصیت ہے نہ کسی اور کی حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور نیک روش پر چلے اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا کسی رنج کا کوئی موقع نہیں۔”
آخر یہ حقائق دین کی انتہائی اور آخری صورت کیوں نہ ہوں ۔ اللہ رب العالمین دنیا کے یر اعظموں میں بسے ہوئے انسانوں سے فرماتا ہے کہ میری طرف رخ کرو ، جو کام بھی تمھارے سپرد کیا جائے اسے حسن خوبی انجام دو تو تم امن و سلامتی سے ہمکنار ہو جاؤ گے ، رنج وغم سے نجات مل جائے گی اور دنیا و آخرت دونوں میں سرخروئی حاصل ہوگی۔
اب اور کیا رہ گیا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو اور کیا کہتا ؟ اسلام کے ساتھ کچھ تفصیلی ہدایات بھی ہیں جیسے تنے سے جڑی ہوئی شاخیں ۔ ان جزئی ہدایات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں دو اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔
اول یہ کہ مسلمانوں کے افکار و خیالات میں کچھ بدعتیں و خرافات بھی در انداز ہوگئی ہیں جن سے اللہ کا دین بری الذمہ ہے ۔ جبکہ یہ چیزیں مسلمانوں کے اعمال میں دین حق کی علامتوں سے زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں۔ اسلام کے مفاد میں یہی ہے کہ انھیں دور کر دیا جائے۔
دوم یہ کہ ایمان کے شعبوں میں ترتیب الٹ پلٹ گئی ہے۔ بنیادی ارکان اضافی چیزیں بن گئے ہیں اور اضافی چیزیں بنیادی ارکان ۔
اسی طرح غیبیات کی چیز میں عقلی امور تک پھیلا دی گئی ہیں اور حلال و حرام کے احکام میںاسلام قبول کرنے والی بعض قوموں کی روایات اثر انداز ہو گئی ہیں۔
کبھی جانتے ہیں کہ حکم شرعی نام ہے مکلف لوگوں کے افعال سے متعلق اللہ تعالٰی کے خطاب کا۔ جہاں یہ خطاب نہ ہو وہاں کوئی حکم نہیں۔
اسلام ہمیشہ وہ دین برقرار رہے گا جسے قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے اور انسانیت کا مفاد اس مضبوط رسی کو تھا مے رہنے ہی میں ہے ۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔