دنیا کا وجود حضرت محمد ﷺ کی بعثت یا حضرت عیسی کی ولادت سے شروع نہیں ہوا ہے بلکہ اس کا سلسلہ ان سے
صدیوں پہلے سے چلا آرہا ہے۔
ان صدیوں کے دوران بندوں کے پروردگار نے انہیں یوں ہی پر اگندہ دماغ نہیں چھوڑ دیا تھا حضرت موسیٰی کو
منتخب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
وانا اختر تك فاستمع لما يوحى انتى انا الله لا اله الا انا فاعبدني واقم الصلواة لذكرى. (طه: ۱۳ (۱۴)
"اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے سن جو کچھ وہی کیا جاتا ہے میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس تو میری
بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔”
پھر ان سے کئی نسلیں پہلے حضرت ابراہیم کو منتخب کر کے انہیں اپنی قوم سے یہ کہنے کی ہدایت فرمائی تھی :
اعبدوا الله واتقو ذلكم خير لكم ان كنتم تعلمون انما تعبدون من دون الله اوثانا و تخلقون افكار ان الذين تعبدون میں دون الله لا يلمكون لكم رزقا فابغوا عند الله الرزق و اعبدوا واشكرواله اليه ترجعون ( العنكببوت : ۱۶. ۱۷)
"اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو در حقیقت اللہ کے سو تم جس کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی بھی رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے اللہ سے رزق مانگو اور اس کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو اس کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔”
حضرت ابراہیم سے پہلے حضرت نوح کی بعثت ہوئی تھی جو تقریباً ایک ہزار سال تک اپنی قوم پر زور دیتے رہے کہ
وہ اپنے پروردگار کو پہچاننے اور اس کی توحید کا اقرار کرے اس سے مغفرت چاہے۔
مالكم لا ترجون لله وقار اوقد خلقكم اطوار الم تروا كيف خالق الله سبع سموات طباقاو جعل القمر و فيهن نورا وجعل الشمس سراجا. (نوح: ۱۳. ۱۶)
"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا ہے۔ کیا
دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے سات آسمان کس طرح تہہ بہ تہہ جمائے ہیں اور ان میں چاند کونور اور سورج کو چراغ بنایا ۔”
یہ انبياء جو حقائق اور مفهوم باربار واضح کرتے رہے ہیں وہ دائمی حیثیت رکھتے ہیں اور قیامت تک ان کی بازگشت جاری رہے گی.
آخری نبی ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے واضح طور پر بتایا تھا کہ وہ خالی جگہ نئی عمارت تعمیر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان بنیادوں اور ستونوں پر کھڑی کر رہے ہیں جو پہلے کے لوگ اٹھا گئے ہیں۔ اور لوگوں کو وہی اصول پھر سے یا دولا رہے ہیں جنہیں وہ دانستہ یا نا دانستہ بھول چکے ہیں۔ یعنی خدائے واحد ، یوم آخرت ، زمین و آسمان کے پروردگار کی مطلق فرمانبرداری، اس کے سیدھے راستے کی پیروی، اس کے قوانین کی اطاعت، نیکی و تقویٰ پر تعاون ، بھلائی کی ہدایت دینے اور برائی سے روکنے، انصاف و بھلائی کرنے کے اصول ۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصینا به ابراهیم و موسی و
عيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه (الشورى: (۱۳)
"اس نے تمہارے دین کا طریقہ مقر ر کیا جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد) اب تمہاری طرف ہم
نے وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم و موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے۔ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو
اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔”
ہم مسلمان یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جو بھی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے پہلے کے رسولوں کو دی تھے وہ سب قرآن نے آیا مزید قرآن ایسی ہدایات بھی لایا جن کے بعد کی نسلوں کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ اس طرح یہ خلا پر ہو گیا اور
شیاطین کے وسوسوں کی گنجائش نہیں رہ گئی۔
ہم مسلمان حضرت موسی و حضرت عیسی اور ان سے پہلے کے نبیوں سے وفاداری کا احساس رکھتے ہیں اور ان چنیدہ بزرگوں سے ہماری محبت کا سرچشمہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے ہمیں ان کے بارے میں بتایا ہے اور ان کے ساتھ اپنی اخوت اور ایک مشترکہ راہ میں ان کے ساتھ جد و جہد کا اعلان کیا ہے۔
سوره فاتحہ کے بعد پہلی ہی سورۃ میں اصول تقویٰ کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلواة و ممار زقناهم ينفقون والذين يومنون بما انز ل يالیك وما انزل من قبلك (البقرة: (۴.۲)
"یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ان پر ہیز گار لوگوں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو کتا بیں تم پر اور تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں۔”
اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان اس تعلق کے باوجود مذاہب کے پیر کاروں کے درمیان زندگی کی تاریخ افسوسناک اور تکلیف دہ رہی۔ ہے۔ یہودیوں نے کہا عیسائیوں کو کوئی بنیاد نہیں ، عیسائیوں نے کہا یہودیوں کی کوئی بنیاد نہیں پھر دونوں نے ساتھ مل کر کہا مسلمانوں کی کوئی بنیاد نہیں۔ مادہ پرستوں نے کہا تینوں آسمانی مذاہب خرافات پر مبنی ہیں اور ان کے ماننے والے کچھ نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس خواہشات کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ کبھی بندہ نا پسند بھی کرتا ہے کہ وہ خواہشات ت کا کا غلام نہ بنے لیکن وہ کسی مذہب سے نسبت اختیار کر بھی لیتا ہے تو بھی اندر سے خواہشات کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے اور کبھی کبھی یہ فاسد دینداری دین سے مکمل نا واقفیت سے بھی زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔
جب ہم قدیم زمانے سے انسانی سفر کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ المیہ سامنے آجاتا ہے :
كان الناس امة واحده فبعث الله النبين مبشرین و منذرین وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه وما اختلف فيه الا الذين أوتوه من بعد ما جائتهم البينات بغيا بينهم البقرة : ٢١٣
‘ ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے ) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے ان کا فیصلہ کرے۔ اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا ) اختلاف ان لوگوں نے کیا جنہیں حق کا علم دیا جا چکا تھا۔ انھوں نے روشن ہدایت پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقہ نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔
آخری جملہ دینداروں کے درمیان دشمنی و کشمکش اور اختلاف پر سے پردہ اٹھا دیتا ہے یعنی یہ کہ وہ بغاوت ہے۔
جب انسان کی دلی خواہشات اعلیٰ اقدار کو ڈھک لیتی ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان اقدار کے لیے لڑ رہا ہے جبکہ وہ کسی دوسری چیز کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے جب وہ وحشی بن جاتا ہے ۔
چلئے ان الزامات کو یہیں چھوڑتے ہیں کہ ہر مذہب ایسے استحصال کرنے والوں ۔ آزمائش میں پڑ چکا ہے جنھوں نے خدا کے نام پر لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی ۔ اس تعلق کو لیتے ہیں جو اسلام نے پہلے کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ متعین کیا ہے۔
جب توریت وانجیل والوں نے جو کچھ ان کے پاس آیا تھا اس پر ہدایت کو نحصر کرنا چاہا اور کہا کہ:
كونوا هو دا او نصارى تهتدوا. البقرة : ١٣٥
"یہودی کہتے ہیں کہ یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی ہو تو ہدایت پاؤ گے۔”
تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا:
قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهیم و اسماعیل واسحاق ويعقوب والاسباط وما اوتی موسی و عیسی و ما اوتی النبييون من ربهم لا نفرق بين احد منهم و نحن له مسلمون (البقرة : ١٣٦)
مسلمانو! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کی ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ، اسماعيل ، اسحاق ، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسی دیسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔
یہ دینی وحدت جس کی طرف آخری نبی دعوت دیتے ہیں عام اور جامع اصولوں پر بنی ہے۔ مختلف زمانوں کی شریعتوں کی فروعات میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کی چنداں اہمیت نہیں۔
بہر حال قرآن نے جو قوانین پیش کیے اور سنت نے جن کی وضاحت کی وہ قیامت تک کی مصلحتوں کی ضمانت فراہم کرنے کا مثالی نمونہ ہیں۔
کشمکش عقیدہ و ایمان کے اصول و ارکان میں نہیں ، ان خلاف ورزیوں میں ہوئی جنھوں نے سور، زنا ، نشہ اور دیگر گناہوں کو حلال کیا۔
ہم مسلمان حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی نبوت اور ان پر نازل شدہ تعلیمات کی تصدیق کرتے ہیں لیکن یہ مانتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ان تعلیمات کو ترک کر دیا۔ چنانچہ آخری نبی کو ان تعلیمات کو پھر سے مضبوطی کے ساتھ پکڑنے اور نبیوں کے ماننے والوں کے ساتھ معاملہ میں انصاف سے کام لینے کی ہدایت کی گئی۔
فلذلك فادع و استقم كما أمرت و لا تتبع أهوائهم وقل آمنت بما انزل الله من كتاب وأمرت لا عدل بينكم الله ربنا وربكم لنا اعمالنا ولكم اعمالكم لا حجة بيننا و بينكم الله يجمع بينا و اليه المصير۔ ( الشوری: ۱۰)
"اس لیے اے نبی تم اس دین کی طرف دعوت دو اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ ۔ اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف قائم کروں ۔ اللہ ہی تمہارا رب بھی ہے اور ہمارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے، ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اس کی طرف سب کو جانا ہے۔
دیکھئے قرآن کریم پہلے نبیوں کی سیرت بیان کرتے ہوئے ان کے اعلیٰ مرتبہ کا کتنا خیال رکھتا ہے جبکہ تحریفات نے دیگر کتابوں میں ان کا درجہ کتنا گھٹایا ہے ۔ بائبل ( کے سفر تکوین ) میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اوپر سے اترا اور حضرت ابراہیم کے ساتھ کھانا کھایا۔ قرآن اس عجیب غریب قصہ کے بجائے صحیح واقعہ بیان کر دیتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے پاس معز زمہمان فرشتے آئے تھے۔
تو ریت کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر حضرت موسیٰ کو دیا تھا۔
اب تو ریت پڑھئے تو اس میں حضرت موسیٰ کی وفات، بنی اسرائیل کی عورتوں کے ماتم اور مو آب میں آپ کی تدفین کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ظاہر ہے یہ بات کسی مؤرخ کی لکھی ہوئی ہے جو حضرت موسیٰ کی زندگی کا ریکار ڈ لکھ رہا تھا۔ پھر یہ بات خود تو ریت میں درانداز ہو گئی ۔
اس طرح کے معاملات میں قرآن کریم صرف صحیح حقائق بیان کر دیتا ہے کہ:
فلاتمار فيهم الامراء ظاهر اولا تسفت فيهم منهم احدا (الكهف: (۲۲)
"پس سرسری بات سے بڑھ کر ان کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو اور نہ ان کے متعلق کسی سے سے کچھ
پوچھو۔ "
اس ملاوٹ کے باوجود اسلام نے ان لوگوں کے پاس موجود ورثہ کا لحاظ کر کے انھیں اہل کتاب مانا اور ان کی عبادت گاہوں وغیرہ کے تحفظ کی ہدایت کی۔
اليوم أحل لكم الطيبات و طعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم و طعامكم حل لهم و المحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم اذا اتيتموهن اجورهن محصنين غير مسافحين ولا متخذى احدات . (المائدة: ٥)
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے۔ اور محفوظ عور تیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی بشر طیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو۔
ان سب چیزوں کا مقصد آپس میں دوری کوختم کرنا اور رو اداری والفت کے ماحول میں اپنی بات پیش کرنا ہے اس لیے ان لوگوں کی بہت سی تحریف شدہ روایات پر بھی جان بوجھ کر گفتگو نہیں کی گئی بلکہ ان سے درگزر کیا گیا ہے۔
يا اهل الكتاب قد جاء کم رسولنا يبين لكم كثيرا مما كنتم تخفون من الكتاب و يعفو عن كثير قد جاء كم من الله نور وكتاب مبين۔ (المائدة : ١٤-١٥ )
اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الہی کی بہت سی ان باتوں کو بھی کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی اور حق نما کتاب۔
موجودہ توریت میں یوم قیامت اور جنت و دوزخ کا ذکر نہیں جبکہ قرآن میں با ربا رواضح طور پر انکا ذکر آیا ہے اس طرح خود حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا ذکر بھی جگہ جگہ آیا ہے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔