اسلام نام ہے اللہ تعالی کے آگے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ یعنی سمع و اطاعت کی بنیاد پر انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان تعلق کا قیام۔
کوئی انسان یہ محسوس کر سکتا ہے کہ زمین و آسمان میں کسی کا اقتدار قائم نہیں ہے۔ اور وہ بغیر کسی کی ہدایت کے اپنی خواہش کے مطابق جو چاہے کر سکتا ہے۔ ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ تعلق میں تو اس طرح کا احساس قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان جس نے اسے اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی نعمت سے پروان چڑھایا اور اسکے لیے ایک سیدھا راستہ تیار کر کے اس پر چلنے کی ہدایت دی، اس طرح کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالی کی مرضی کے تابع بنائے۔
ومن يسلم وجهه الى الله وهو محسن فقد استمسك بالعروة الوثقى والىالله عاقبة الامور (لقمان: ٢٢)
"جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے اور عملاًوہ نیک ہو اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابلسہارا تھام لیا۔
خالق اور اس مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت اور ہو بھی کیا سکتی ہے جسے روئے زمین پرکم یا زیاد و چند برس گزار کر پھر اپنے خالق کے پاس لوٹنا ہے؟”
یہ تعلق نا واقفیت و سرکیر کا ہوگا یا پہچان اور سپردگی کا ؟
یہ بالکل فطری بات ہے کہ انسان اپنے عظیم پروردگار کو پہچانے ، اس کے حکم کی پیروی کرے اور اس کی ہدایت کے مطابق چلے۔ یہی اسلام کا مطلب ہے جس کی سارے رسولوں نےتصدیق کی ہے اور خود اللہ تعالی فرماتا ہے۔
إن الدين عند الله الاسلام(آل عمران )
دین تو اللہ تعالی کے نزدیک اسلام ہی ہے
انسان جب اللہ تعالی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کا اعلان کرتا ہے اور اس کی ہدایتوں کا احترام اور پیروی کرتا ہے تو وہ پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے جو پوری کی پوری اپنےپروردگار کے لیے سجدہ گزار اور اس کی عظمت کا نعرہ بلند کرتی ہے۔
ا أفغير دين الله يبغون وله اسلم من في السموات و الارض طوعا و كرها و اليه يرجعون (آل عمران)
اب کیا لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں حالانکہ آسمان اور زمیں کی ساری چیزیں چارہ نا چاراللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم)ہیں۔ اور اسی کی طرف سب کو پلٹناہے۔
وہ غلطی کرے گا جو یہ گمان کرے کہ اسلام اس دین کا نام ہے جو پندرہ سو سال پہلے حضرت محمدﷺ لے کر آئے۔ اسلام تو ان تمام رسالتوں کا عنوان ہے جو ابتدائے تخلیق سے آج تکلوگوں کو ہدایت دیتی چلی آرہی ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ اسلام کی حقیقت اپنے کمال اور آخری شکل یک حضرت محمد کی رسالت میں پہنچی لیکن قرآن کریم نے بلا استثنا تمام انبیاء کے پیغامات کو اسلام ہی کا نام دیا ہے۔
حضرت یعقوب نے جن کا لقب اسرائیل ہے نہ صرف اسلام کیدعوت دی اور وفاتتک اس پر جمے رہے بلکہ اپنی اولاد کو بھی یہی وصیت فرمائی۔

أم كنتم شهداء أن حضر يعقوب الموت اذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد الهك والله أبائك ابراهیم و اسماعیل و اسحق الهاواحداً و نحن له مسلمون (البقرة: ۱۳۳)
پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جس وقت یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا۔ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا بچو ! تم میرے بعد کس کی بندگی کرو گے ان سب نے جواب دیا ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کےبزرگوں ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق نے خدا مانا ہےاور ہم اسی کے پیروکار ہیں۔

حضرت عیسی اپنے پیروکاروں کو اللہ تعالی کی اطاعت اور صدق دل سے بندگیسکھاتے تھے:

و اذا أوحيت الى الحواريين أن آمنوا بی و برسولی قالوا آمنا و اشهد باننا مسلمون. ( المائدة : ١١١)
اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لا ئے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔

خود توریت کے بارے میں ہے۔
انا انزلنا التوراة فيها هدى و نور يحكم بها النبيون الذين أسلموااللذين هادوا والربانيون والاخبار بما استحفظوا من كتاب الله وكانوا عليه شهدا ۔ (المائدة: ٤٤)
ہم نے توریت نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔ سارے نبی جو مسلم تھے اس کے مطابق انیہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اس طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے )کیونکہ انھیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور اس پر گواہ تھے۔

اسلام دو اہم حقیقتوں کے بغیر صیحر نہیں ہو سکتا ۔ اول اللہ تعالی کی صحیحمعرفت اور تمام تر بزرگیوں کے ساتھ الوہیت کا تصور ۔ جس نے کسی چیز کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا اس کے ساتھ کسی شے کی نسبت کی یا یہ مان کیا کہ جس دنیا میں رہ ر ہے میں اس میں وہ مجسم ہوتا ہے تو اسے مسلمان نہیں کا جاسکتا۔ اللہ تعالی کے تعلق سے صحیحجانکاری نا گزیر ہے۔ اس کے بعد اس کی اطاعت اوراس کے احکام کے نفاذ کا نمبر آتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کی پاکی ، اس کی تعریف، اس کے اچھے ناموں اور بلند صفات اور عظمت الہیہ کے نشانات کو جس بھر پور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے اس کی کوئی مثال کسی قدیمکتاب میں یا آسمانی و زمینی کلام میں نہیں ملتی ۔

جب آپ قرآن پڑھیں گے تو ہر چیز پراللہ تعالی کی نگاہ اور مطلق کنٹرول محسوس کریں گے۔

له غيب السموت والارض البصر به واسمع ما لهم من دونه ولى ولا يشركفي حكمه أحدا (الكهف: ٢٦)
آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اس کو معلوم ہیں کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا (زمین و آسمان کی مخلوقات کا )کوئی خبر گیر اس کے سوا نہیں اور دواپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہو، ہر معاملہ کی تدبیر کر رہا ہو ، سماعت و بصارت جس کے اختیار میں ہوں ، رات اور دن کو ادلتا بدلتا ہو، ہوائیں چلاتا ہو، بھٹکے ہوؤں کو تاریکیوں سے روشنی میں لاتا ہو، انسان کیونکر اپنے آپ کو اس کے سپرد نہ کرے۔ جو بھی اللہ تعالی کی طرف کوئی بیٹا منسوب کرے یا اسے اس کے بندوں سے مشابہ قرار دے اس پر قرآنکریم میں شدید غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔

قالوا اتخذ الله ولدا سبحته هو الغنى له ما في السموات وما في الأرض ان عندكم من سلطان بهذا اتقولون على الله ما لا تعلمون قل ان الذين يفترونعلى الله الكذب لا يفلحون (یونس : ٦٩٦٨)
لوگوں نے کہہ دیا اللہ نے کسی کو بیٹا با یا ہے سبحان اللہ وہ تو بے نیاز ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملک تمہارے پاس اس قول کے لیےآخر دلیل کیا ہے کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمھارے علم میں نہیں اے نبیؐ کہہ دو کہ جو اللہ تعالی پرجھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاسکتے ۔

اللہ تعالی کی صحیح پہچان کی حقیقت کے بعد دوسری حقیقت آتی ہے یعنی اللہ تعالی کی مکمل اطاعت اور پیروی۔ اللہ تعالی کے آگے خود سپردگی اور جھکنا اور دوسری طرف اس سے سرکشی اورنافرمانی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کسی معصیت میں پڑہی نہیں سکتا؟
صحیح بات تو یہ ہے کہ اگر مسلمان سے معصیت ہو جائے تو یہ اچانک ٹھوکر اور بے سوچے مجھے کی لغزش ہوتی ہے وہ فورا ًہی اس پر نادم وشرمندہ ہو کر اس سے پیچھا چھڑاتا ہے۔
کبھی عقل کی روشنی پر گہن لگ جاتا ہے اور عزم و حوصلہ کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے تبانسان اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔
ان الذين اتقوا اذا مسهم طئف من الشيطن تذكروا فاذاهم مبصرون ۔ (الاعراف: ۲۰۱)
"حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انھیں چھو بھی جاتا ہے تو فورا چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیحطریقہ کار کیا ہے۔”

اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شرابی پر لعنت بھیجنے سے منع فرمایا تھا جس کی لت نے اس کی قوت ارادی کو کمزور کر دیا تھا۔ ظاہر ہے اس مے نوش کے گناہ کی نوعیت وہ نہیں ہو سکتی جو کسی ایسے شخص یا معاشرے کی ہوگی جو اللہ تعالی کے حکم کو کوئی اہمیت ہی نہ دے، شراب کو جائز سمجھے، اس کی تجارت کرے اور اپنے عمل کو جرم نہ سمجھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی امت تیار کی تھی جو پوری طرح اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کئے ہوئے تھی ۔ فجر سے لے کر عشا تک پابندی کے ساتھ اپنے پروردگار کی مرضی کےمطابق سرگرم عمل رہتی تھی۔

قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العلمين لا شريك له وبذلك امرت و انا اول المسلمين۔ (الانعام: ١٦٢ ١٦٣)
"کہو میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت ، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اورسب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔
اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو حرز جاں بنائے ہوئے تھی۔

فلا وربك لا يؤمنن حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فيانفسهم حرجا ما قضيت ويسلمواتسليما (النساء: ٥٦)
"اے محمد تمھارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کوفیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کر واس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سربر تسلیم کریں۔”
اپنے پروردگار کے آگے سر تسلیم خم کرنا سچائی بھی ہے اور باعث شرف بھی۔اور یہی اسلام ہے۔